جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے۔ کہ آجکل مصنوعی ذہانت ک بہت چرچے ہیں۔ اور ہر بندہ ان کی ہی بات کر رہا ہے۔ اور ان کی ہی سوچ رہا ہے۔ کیا اپ کو معلوم ہے۔کہ پچھلے ماہ دنیا بدل چکی ہے۔ کیا اپ کو معلوم ہے کہ لوگو ں کی نوکریا ں خطرہ میں پڑ چکی ہیں۔ کیونکہ انسانوں والے کام اب روبوٹس کریں گے ۔ اور انسان عیش و آرام کریگا۔

مصنوعی ذہانت کا دور اور انسانوں کے لئے خطرہ:- 

پاکستان جیسے ملک جدھر کے حکمران صرف اللے تللوں میں مصروف رہتے اور اپنا پیٹ بھرتے رہے ہیں۔ ان میں صرف یہی فرق ہے۔ کہ ہم لوگ دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ حتی کہ ہما را ہمسایہ مصنوعی ذہانت سے ایک نیوز اینکر بنا چکا ہے۔ جس کا نام ثناء ہے۔ اب سوچو۔ کہ ہم نے کیا کیا ہے؟

 

پاکستان میں لوگ آٹے کے لئے دربدر گھوم رہے ہیں اور ان کو اس بات کا ہی رہتا ہے۔ کہ روٹی کیسے کھائیں اور کمائیں کیسے۔ پاکستان کے حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں۔ کہ ہم کو لگتا ہے۔ کہ ہم اور ہمارا نظام خراب ہے۔ اور اس کے لئے ہم کوشش کریں گے۔ تو ہی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

یہ بھ پرھیں: اپنا بلاگ کیسے شروع کریں

پاکستان کے مشہور بلاگر محمد اسماعیل نے کچھ سال پہلے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بات کی تھی اور لوگوں نے اس بات کا برا مانا تھا۔ اور اس کے علاوہ اس کو تنقید کا نشانی بھی بنایا تھا ۔ کہ وہ ایسی بات کیوں کررہا ہے۔ اور آج اس کی کہی ہوئی بات پوری ہو رہی ہے۔ کہ مصنوعی ذہانت اپنی پنجے گاڑ رہی ہے۔ اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں لوگ بہت زیادہ ترقی کررہے ہیں۔

 

اس کے علاوہ ہم کو اس بارے میں سوچناچاہیے ۔ کہ ہم سب کو اس پر کا،م بھی کرنا چاہئے ۔ اور لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے ۔ کہ اب وقت بدل چکا ہے۔ ہم کو بھی بدلنا چاہئے ۔ نہیں تو صرف تاریخ بن کر رہ جائیں گے۔

چیٹ جی پی ٹی:- 

اب ایک ٹول چیٹ جی پی ٹی کے نام سے مارکیٹ میں آیا اور اس نے آتے ہی دھوم مچا دی۔ اور جو لوگ لکھاری ہیں۔ ان کے لئے خطرہ بن گیا۔ کیونکہ جو لوگ اب کنٹینٹ کے لئے لوگوں کو نوکری دیتے تھے۔ وہ لوگ اس کے لئے اس ٹول کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اور اپنی بلاگز اور ویب سائٹ کے لئے اسی ٹول کی مدد سے اپنا کنٹینٹ بنانے لگے۔

 

اب تو یہ ایک ٹول تھا۔ جس نے مارکیٹ میں آ کر دھوم مچا سی تھی۔ اس کے اگلے ہفتے مصنوعی ذہانت سے ویڈیو بنانا، تصویر بنانا اور ہر وہ کام جس کے لئے لوگوں کو ہائر کیا جاتا تھا۔ وہ اس لئےاستعمال ہونے لگے۔

پاکستان اور ٹیکنالوجی:-

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے اپنے مصنوعی ذہانت کے ٹولز بنانے لگیں۔ اور اسی طرح وہ ہفتہ دنیا کی تندیلی کا معمار بن گیا۔ کیونکہ تب لوگ اپنے آپ کو اسی ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت ہر منتقل کرنے لگے اور اکثر لوگون خود اور اپنے کاروبار کو منتقل کر دیا ہوا ہے۔

 

پاکستان کو دیکھ لیں۔ اور اس کی حکومت اور عوام اسی وجہ سے ہم سب لوگ پیچھے ہیں ۔ اور ہمارا ہر ادارہ 1947 والی حالت میں ہے۔ ہماری عمارتیں، ہماری سوچ، ہمارا نطام سب ہی بوسیدہ ہوچکا ہے۔ جس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انور سولنگی کے ڈیرے پر پولیس کا چھاپہ

ہم بس ایک ہی چیز کے پیچھے گھوم رہے ہیں۔ اور وہ ہے۔ کہ انگریزی سیکھ لو۔ منہ ٹیڑا کر لو ۔ اپنی زبان کو بھول جائو۔ اکثر پاکستانی عوام اردو پڑھنا ، لکھنا اور بولنا بھول چکے ہیں۔